سورۃ الفاتحہ کا تعارف اور اس کی عظمت

سورۃ الفاتحہ کا تعارف اور اس کی عظمت

السلام علیکم دوستو! ‘لائف ٹوڈے’ کے اس نئے بلاگ میں ہم قرآن مجید کی سب سے پہلی اور عظیم ترین سورۃ، “سورۃ الفاتحہ” کے تعارف اور اس کی اہمیت پر بات کریں گے۔ یہ تحریر ممتاز عالمِ دین شجاع الدین شیخ صاحب کے پروگرام ‘بصیرت القرآن’ کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

سورۃ الفاتحہ کا تعارف

سورۃ الفاتحہ، جسے “اُم القرآن” (قرآن کی ماں) بھی کہا جاتا ہے، مکمل طور پر نازل ہونے والی سب سے پہلی سورۃ ہے۔ گو کہ اس سے پہلے سورۃ العلق کی چند ابتدائی آیات نازل ہو چکی تھیں، لیکن ایک مکمل سورۃ کے طور پر سب سے پہلے سورۃ الفاتحہ ہی مکہ مکرمہ میں دعوتِ دین کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ اسے “فاتحہ” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرآن مجید کو “کھولنے والی” سورۃ ہے اور اسی سے کتابِ ہدایت کا آغاز ہوتا ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کی بے پناہ فضیلت بیان فرمائی ہے:

  • قرآنِ عظیم: جامع ترمذی کی روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس سورۃ جیسی کوئی اور سورۃ نہ تورات میں اتری، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ ہی خود قرآن میں اس کی کوئی مثال ہے۔

  • دو تہائی قرآن: بیہقی شریف کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ الفاتحہ دو تہائی (2/3) قرآن کے برابر ہے ۔

  • دو نور: صحیح مسلم کی روایت میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دو ایسے نور دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: ایک سورۃ الفاتحہ اور دوسرا سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات (جو شبِ معراج عطا ہوئیں)۔

مرکزی مضمون اور قرآن کا خلاصہ

اگر غور کیا جائے تو سورۃ الفاتحہ پورے قرآنِ مجید کا ایک جامع خلاصہ ہے۔ اسلامی عقائد کے تین بنیادی ستون ہیں: توحید، رسالت، اور آخرت۔ اور یہ تینوں اس چھوٹی سی سورۃ میں سمو دیے گئے ہیں:

  1. توحید: “الحمد للہ رب العالمین” اور “الرحمٰن الرحیم” میں اللہ کی حمد، اس کی ربوبیت اور رحمت (توحید) کا ذکر ہے۔

  2. آخرت: “مالک یوم الدین” میں روزِ جزا اور آخرت کا واضح بیان ہے۔

  3. رسالت: “اھدنا الصراط المستقیم” اور “صراط الذین انعمت علیھم” میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن پر اللہ نے انعام کیا (انبیاء، صدیقین، شہداء)، جو کہ عقیدہ رسالت کو ظاہر کرتا ہے۔

اللہ اور بندے کا مکالمہ (حدیثِ قدسی)

اس سورت کی سب سے خوبصورت بات وہ حدیثِ قدسی ہے جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نماز (یعنی سورۃ الفاتحہ) کو اپنے اور بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر لیا ہے۔ جب بندہ پڑھتا ہے “الحمد للہ رب العالمین” تو اللہ فرماتا ہے “میرے بندے نے میری حمد بیان کی”۔ اور جب بندہ کہتا ہے “ایاک نعبد و ایاک نستعین” تو اللہ فرماتا ہے “یہ میرے اور بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے نے جو مانگا میں نے اسے عطا کر دیا”۔

ایک اہم یاددہانی اکثر ہم سورۃ الفاتحہ کو نماز میں تیزی سے ایک ہی سانس میں پڑھ جاتے ہیں۔ لیکن سنتِ رسول ﷺ یہ ہے کہ ہر ہر آیت پر رکا جائے، تاکہ ہم اس مکالمے اور اللہ کی طرف سے آنے والے جواب کو دل سے محسوس کر سکیں۔

آئیے! ‘لائف ٹوڈے’ کے پلیٹ فارم سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سورۃ الفاتحہ کا ترجمہ یاد کریں گے اور نماز میں اسے ٹھہر ٹھہر کر پورے شعور کے ساتھ پڑھیں گے۔

اس سورت کی مزید تفصیلات اور مکمل بیان سننے کے لیے آپ اس لنک پر جا سکتے ہیں

Leave a Comment