بسم اللہ الرحمن الرحیم کی اہمیت اور فضیلت
السلام علیکم! ‘لائف ٹوڈے’ کے اس نئے بلاگ میں ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام سے ہے۔ آج ہم شجاع الدین شیخ صاحب کے پروگرام ‘بصیرت القرآن’ کی روشنی میں “تسمیہ” یعنی “بسم اللہ الرحمن الرحیم” کی اہمیت، برکات اور اس کے روحانی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔
تسمیہ (بسم اللہ) کیا ہے؟
تسمیہ سے مراد “بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کا آغاز اسی مبارک کلمے سے ہوتا ہے اور سوائے سورۃ التوبہ کے، قرآن کی ہر سورت کے آغاز میں “بسم اللہ” موجود ہے۔ یہ کلمہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر کام کی ابتداء اللہ کے بابرکت نام سے کرنی چاہیے۔
بسم اللہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں بسم اللہ کی بے پناہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جو کام اللہ کے نام (بسم اللہ) کے بغیر شروع کیا جائے وہ ادھورا اور برکت سے خالی ہوتا ہے۔
-
کھانے پینے کا آداب: ہمیں سکھایا گیا ہے کہ کھانے اور پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں تاکہ اس رزق میں برکت شامل ہو جائے اور شیطان اس میں شریک نہ ہو سکے۔ اگر شروع میں پڑھنا بھول جائیں تو “بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ” پڑھ لیں۔
-
شیاطین سے حفاظت: بسم اللہ پڑھنے سے اللہ کی نصرت اور تائید حاصل ہوتی ہے اور یہ انسان کو شیطانی اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔
الرحمٰن اور الرحیم کے معنی
“بسم اللہ” میں اللہ تعالیٰ کی دو عظیم صفات کا ذکر ہے: الرحمٰن اور الرحیم۔ ان دونوں کے درمیان ایک لطیف فرق ہے جسے علماء نے خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
-
الرحمٰن (دنیا کے لیے): یہ صفت ‘عمومیت’ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی رحمت دنیا میں سب کے لیے ہے، چاہے کوئی مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد۔ اللہ ہر کسی کو رزق دیتا ہے اور دنیاوی نعمتوں سے نوازتا ہے۔
-
الرحیم (آخرت کے لیے): یہ صفت ‘خصوصیت’ رکھتی ہے۔ آخرت میں اللہ کی یہ خاص رحمت صرف اور صرف مومنوں اور نیک بندوں کے لیے ہوگی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: “یا رحمٰن الدنیا، یا رحیم الاٰخرہ”۔
بسم اللہ میں موجود باطنی پیغام
جب ہم کسی کام سے پہلے “بسم اللہ” پڑھتے ہیں، تو ہم دراصل تین چیزوں کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں:
-
مصاحبت (ساتھ ہونا): ہم اللہ کے نام کو اپنے کام کے ساتھ ملا لیتے ہیں۔
-
تبرک (برکت حاصل کرنا): ہم اللہ کے نام سے اپنے کام میں برکت اور اضافہ طلب کرتے ہیں۔
-
استعانت (مدد مانگنا): ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر ہم کوئی بھی کام مکمل نہیں کر سکتے۔
لائف ٹوڈے کا پیغام
بسم اللہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل لائف اسٹائل اور نظریہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا میں اسباب کو استعمال تو کرنا ہے لیکن بھروسہ “مسبب الاسباب” (اسباب پیدا کرنے والے اللہ) پر رکھنا ہے۔
آئیے آج سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کے ہر کام—چاہے وہ کھانا پینا ہو، گھر سے نکلنا ہو، گاڑی میں بیٹھنا ہو یا کوئی بھی نیا پروجیکٹ شروع کرنا ہو—اس کا آغاز “بسم اللہ الرحمن الرحیم” سے کریں گے۔
اس موضوع پر مزید بصیرت افروز تفصیلات جاننے کے لیے آپ شجاع الدین شیخ صاحب کا یہ مکمل بیان اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں: