تعوذ (اعوذ باللہ) کی اہمیت اور شیطان کے وار سے بچاؤ کا طریقہ
السلام علیکم دوستو! ‘لائف ٹوڈے’ کے اس نئے بلاگ میں ہم ایک انتہائی اہم اور روزمرہ کی زندگی سے جڑے موضوع پر بات کریں گے۔ آج کا ہمارا موضوع “تعوذ” یعنی (اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم) کی اہمیت اور افادیت ہے۔ یہ تحریر ممتاز اسکالر شجاع الدین شیخ صاحب کے پروگرام ‘بصیرت القرآن’ کی ایک قسط پر مبنی ہے، جس میں شیطان کے فریب اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تعوذ کیا ہے؟
“اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم” کا مطلب ہے: “میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔”
لفظ ‘مردود’ کو عموماً گالی سمجھا جاتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا مطلب ہے “جسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہو یا دھتکار دیا گیا ہو”۔
قرآن مجید کی تلاوت اور تعوذ کا حکم
قرآن پاک کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ پڑھنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
سورۃ النحل (آیت 98) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “جب تم قرآن پڑھنے لگو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو شیطان مردود سے”۔
چونکہ قرآن سیدھا راستہ (صراطِ مستقیم) دکھاتا ہے، اس لیے شیطان انسان کو اس نیک کام سے روکنے کی پوری کوشش کرتا ہے، لہٰذا اس کے شر سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنا نہایت ضروری ہے۔
شیطان کون ہے؟ ایک کھلا دشمن
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شیطان فرشتہ نہیں بلکہ جنات میں سے ہے (سورۃ الکہف: 50)۔ حدیث نبوی ﷺ کے مطابق، شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار انسانوں کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، لہٰذا تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔
شیطانیت کے تین بڑے مظاہر ویڈیو میں شیطانیت کی تین بنیادی علامات بتائی گئی ہیں، جن سے ہمیں خود کو اور اپنے معاشرے کو بچانا چاہیے:۔
-
تکبر : شیطان نے اپنے آپ کو آگ سے بنے ہونے کی وجہ سے مٹی سے بنے انسان پر برتر سمجھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
-
حسد: اسے اس بات کا حسد تھا کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنا خلیفہ کیوں بنایا۔
-
غلطی پر اڑے رہنا: حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی تو انہوں نے فوراً توبہ کر لی، لیکن شیطان اپنی غلطی پر اڑ گیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرنے کے بجائے اللہ کے فیصلے پر ہی اعتراض کر دیا۔
شیطان کے حملے کیسے ہوتے ہیں؟
شیطان نے اللہ کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انسانوں پر آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں، غرض ہر طرف سے حملہ کرے گا۔ وہ اور اس کا لشکر ہمیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ وہ سیدھے راستے پر بیٹھ کر لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کو اپنا شکار بناتا ہے جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔
شیطان کے وار سے کیسے بچا جائے؟
اتنے طاقتور اور پوشیدہ دشمن سے لڑنے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، کیونکہ شیطان اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ چند اہم حفاظتی تدابیر یہ ہیں:۔
-
جب بھی دل میں برے خیالات یا وسوسے آئیں تو فوراً “اعوذ باللہ” پڑھ کر اللہ کی پناہ مانگیں۔
-
روزمرہ کے کاموں جیسے لباس تبدیل کرتے وقت اور واش روم جاتے وقت مسنون دعاؤں اور “بسم اللہ” کا اہتمام کریں تاکہ شیطان اور انسان کے درمیان پردہ حائل ہو جائے۔
-
ہر فرض نماز کے بعد اور رات کو سوتے وقت سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کو اپنی عادت بنائیں۔
حرفِ آخر
ہمارا ایمان ہے کہ اگر ہمارے دل اللہ کی یاد سے آباد رہیں گے تو شیطان وہاں اپنا ٹھکانہ نہیں بنا سکے گا۔ ‘لائف ٹوڈے’ پروجیکٹ کے تحت اس پوسٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم اپنے اس کھلے دشمن کی چالوں کو پہچانیں اور اللہ کی پناہ میں آ کر اپنی دنیا اور آخرت کو محفوظ بنائیں۔
اس موضوع پر مزید تفصیلات جاننے اور اپنے ایمان کو تازگی بخشنے کے لیے آپ یہ مکمل ویڈیو بیان نیچے دیے گئے لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔